بنگلور، 5اپریل (ایس او نیوز ) ریاستی وزیر قانون ٹی بی جئے چندرا نے سابق وزیراعلیٰ ایس ایم کرشنا پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی میں رہتے ہوئے بحیثیت وزیر اعلیٰ ، مرکزی وزیر ، گورنر نیز ہر سطح پر اقتدار کا مزہ لینے کے بعد اب ایس ایم کرشنا کانگریس پارٹی سے دغا کرکے فرقہ پرست بی جے پی کا حصہ بن چکے ہیں ، یہ ان کی مفاد پرستی کاکھلا عکاس ہے، آج ننجنگڈھ میں انتخابی مہم کے دوران ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اب تک یہی سمجھا جارہا تھاکہ ایس ایم کرشنا ایک سینئر ، ذی فہم اور دانشمند سیاست دان ہیں ،لیکن بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ اتنی طویل عمری میں بھی وہ دانشمندی سے عاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت ایس ایم کرشنا اقتدار پر رہے انہیں عوام کی فلاح وبہبود کی فکر نہ رہی ۔ اب غیر معمولی طور پر عوام سے ہمدردی پیدا ہوگئی ہے۔انہوں نے کہاکہ بحیثیت وزیراعلیٰ ایس ایم کرشنانے دیہی علاقوں کو نظر انداز کردیا اور بنگلور کو سنگاپور بنانے چل پڑے تھے۔کسانوں ، پسماندہ طبقات اور غریبوں کی مصیبتیں ایس ایم کرشنا کو نظر نہیں آتیں۔ ایس ایم کرشنا کی طرف سے دیہی علاقوں کو نظر انداز کرنے کے سبب ہی 2004کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ انہوں نے کہاکہ ایس ایم کرشنا اگر اسی وقت بحیثیت وزیر اعلیٰ ریاست کے تمام علاقوں کے عوام سے انصاف کرتے تو کانگریس کو دس سال اقتدار سے باہر نہ رہنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے بعد اپنی ہی پارٹی سے دھوکہ کرنے والے شخص سے وفاداری کی توقع قطعاً نہیں کی جاسکتی۔وزیر اعلیٰ سدرامیا کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اقتدار سنبھالتے ہی سدرامیا نے سماج کے کمزور طبقات کی فلاح کیلئے انا بھاگیہ ، کشیرا بھاگیہ ، شادی بھاگیہ ، ودیاسری وغیرہ اسکیمیں متعارف کروائیں اور عوام ان سے گزشتہ چار سال سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ ریاست کے تمام علاقوں کے عوام کو سہولتیں پہنچانے میں لگے سدرامیا پر نکتہ چینی کا ایس ایم کرشنا کو کوئی حق نہیں ہے۔ آج ایس ایم کرشنا ان لوگوں کے ساتھ بیٹھنے پر مجبور ہیں جو رشوت خوری اور لوٹ مارکرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے جاچکے ہیں۔ایس ایم کرشنا کے بی جے پی میں شامل ہونے کے فیصلے اور لٹیروں سے دوستی کو دیکھنے کے بعد ان کی اصل شخصیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ننجنگڈھ اور گنڈل پیٹ میں کانگریس کی جیت میں کسی طرح کا شبہ نہیں ہے۔پچھلے چار سال سے سدرامیا حکومت کی طرف سے کئے گئے فلاحی اقدامات ہی اس حکومت کی جیت کا ضامن ہوں گے۔ اس موقع پر مقامی کانگریس لیڈران بھی موجود تھے۔